اداکارہ صبا فیصل نے ماضی کا قصہ سنا کر نئی بحث چھیڑ دی، انہوں نے تقریباً 25 سال پرانا ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک بار میں اپنے شوہر کو لینے ان کے آفس گئی اور ریسیپشن پر جا کر کہا کہ ان کو بلا دیں۔ ریسیپشنسٹ نے مجھ سے پوچھا آپ کون ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ میں مسز فیصل ہوں۔
اگلے دن میرے شوہر نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ریسیپشن پر کیا کہا تھا کیونکہ وہ لڑکی نوکری چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ میں نے بتایا کہ میں نے صرف یہی کہا تھا کہ میں مسز فیصل ہوں۔ اس پر میرے شوہر نے کہا کہ شاید اس لڑکی کے دل میں ان کے لیے یک طرفہ جذبات تھے جن کا انہیں علم نہیں تھا۔ میری نظر میں ایک بیوی کو اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ دوسری خواتین کسی بھی مرد کے قریب آنے سے پہلے سو بار سوچیں۔
گھریلو خواتین اکثر فارغ ہوتی ہیں اور کچھ خواتین اپنے شوہروں پر اعتماد نہیں کرتیں، خاص طور پر جب شوہر اچھا کما رہا ہو۔ ایسے حالات میں وہ اپنے شوہروں پر نظر رکھتی ہیں جیسے ہم ڈراموں میں بھی دیکھتے ہیں۔ آج کل میں بھی ایک ڈرامہ کر رہی ہوں جس میں میرا کردار اپنے شوہر پر نظر رکھنے کے لیے ڈرائیور کو بھیجتا ہے تاکہ وہ اس کی نگرانی کرے۔
اگر مرد کے پاس پیسہ ہو تو بعض اوقات وہ باہر تعلقات کے بارے میں سوچ بھی سکتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ باہر والی عورت ان کا زیادہ خیال رکھے گی جبکہ وہ اپنی فیملی کا خیال رکھتے رہیں گے۔ میرا پیغام ان خواتین کے لیے یہی ہے جو اپنے شوہروں پر شک کرتی ہیں کہ انہیں پرسکون رہنا چاہیے، آخرکار وہ اپنے بچوں کی ماں کے پاس ہی واپس آتا ہے۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں وہ کہیں نہیں جا رہا۔
یہ باتیں سینئر پاکستانی اداکارہ صبا فیصل نے حال ہی میں پوڈکاسٹ میں اداکار عدنان فیصل کے ساتھ گفتگو کے دوران کہیں۔ پروگرام میں انہوں نے ازدواجی زندگی، اعتماد، اور رشتوں میں حسد جیسے موضوعات پر کھل کر بات کی اور اپنے ذاتی تجربات بھی شیئر کیے۔
ان کے ان بیانات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں سوشل میڈیا صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی سوچ کو حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ تعلقات میں اعتماد کو اس انداز سے دیکھنا ہر کسی کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔