اوج کے ساتھ چند کامیاب سال گزارنے کے بعد عبدالرحمان نے سولو کرئیر کی جانب قدم اٹھایا اور اس وقت ان کا شمار پاکستان کے نامور ترین گلوکاروں میں ہوتا ہے، جو نوجوان نسل کی نہ صرف نمائندگی کرتے ہیں بلکہ انھیں اردو زبان سے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
روشنیوں سے بھرے سٹیج پر جب وہ مائیک تھامتے ہیں تو سامعین کے لیے وہ ’حاوی‘ ہوتے ہیں۔۔۔ ایک ایسی آواز جو درد، محبت اور خاموش جذبات کو دھن میں ڈھال دیتی ہے مگر سٹیج سے باہر وہ شخص عبدالرحمان ساجد ایک عام نوجوان ہیں، جو اپنی شناخت، اپنے فن اور اپنے راستے کی تلاش میں ہیں۔
پاکستان میں موسیقی کی دنیا میں حاوی ان فنکاروں میں شامل ہیں جو نہ صرف اپنی آواز بلکہ اپنے احساسات کے ذریعے بھی پہچانے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کرئیر کا آغاز ’اوج بینڈ‘ کے ساتھ کیا تھا، جس نے سنہ 2019 میں ’پیپسی بیٹل آف دی بینڈز‘ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
اوج کے ساتھ چند کامیاب سال گزارنے کے بعد عبدالرحمان نے سولو کرئیر کی جانب قدم اٹھایا اور اس وقت ان کا شمار پاکستان کے نامور ترین گلوکاروں میں ہوتا ہے، جو نوجوان نسل کی نہ صرف نمائندگی کرتے ہیں بلکہ انھیں اردو زبان سے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے عبدالرحمان سے حاوی تک کے سفر پر تو بات کی ہی، ساتھ ہی ساتھ اپنے پہلے سولو البم کی تیاری کے بارے میں بھی بتایا، جو ان کے مطابق اس سال ریلیز ہو جائے گا۔
’حاوی‘ کون ہیں؟
عبدالرحمان نے جب اپنے سولو کرئیر کی طرف قدم رکھا تو ایک فنی نام بھی اپنایا، جو آج ان کی پہچان بن چکا ہے، بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سٹیج پر نظر آنے والا ’حاوی‘ دراصل ایک کردار ہے، ایک ایسی شناخت جو انھوں نے خود تخلیق کی۔
’حاوی ایک کہانی کا مرکزی کردار ہے، جسے میں سٹیج پر پیش کرتا ہوں۔ سٹیج پر میں حاوی ہوں جبکہ عبدالرحمان میری ذاتی زندگی کی نمائندگی کرتا ہے، اس طرح میں نے اپنی ذاتی اور فنی زندگی میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی۔‘
ان کے مطابق یہ دو الگ دنیا ہیں مگر دونوں ایک ہی شخص کے اندر بستی ہیں۔
’موسیقی صرف پیشہ نہیں بلکہ خود کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے‘
حاوی کا کہنا ہے کہ ان کے لیے موسیقی صرف پیشہ نہیں بلکہ خود کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے، ان کا موسیقی سے تعلق کسی ایک لمحے میں نہیں جڑا بلکہ یہ آہستہ آہستہ ان کی زندگی کا حصہ بنتا گیا۔
’کم عمری میں ہی میرا رجحان موسیقی کی طرف ہو گیا تھا اور آہستہ آہستہ یہی میری شناخت بنتی گئی۔‘
سکول کے دنوں میں موسیقی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے لے کر ایک بینڈ کا حصہ بننے تک، یہ سفر بظاہر عام لگ سکتا ہے مگر حاوی کے لیے یہ مسلسل تلاش کا عمل تھا، جس کے ذریعے وہ اپنی آواز کو پہچاننے کی کوشش کررہے تھے۔
موسیقی کو بطور کرئیر اپنانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ہر فنکار کی زندگی میں ایسا لمحہ آتا ہے جب شوق اور پیشے کے درمیان حد مٹنے لگتی ہے، ان کے لیے بھی یہ لمحہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔
وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے موسیقی کو بطور کرئیر اپنانے کا فیصلہ کیا، تو چیزیں بدلنا شروع ہو گئیں مگر یہ تبدیلی صرف باہر نہیں بلکہ اندر بھی تھی۔
- ارشاد بھٹی کی معافی اور میرا کی وضاحت: ’اکیلی عورت ہوں اور میرا سفر سب کے سامنے ہے‘
- ’پاکستان آئیڈل جیتنے والے گمنام ہو جاتے ہیں‘: ساحر علی بگا کو ٹیلنٹ شوز اور انڈین گانوں سے اعتراض کیوں
- ’موسیقی تمام سرحدوں سے ماورا ہے‘: آشا بھوسلے سے متعلق مواد نشر کرنے پر پاکستانی چینل کو نوٹس جاری
- پنجاب میں ’غیر اخلاقی‘ اور ’ذومعنی‘ گانوں پر پابندی: ’اس فہرست میں کئی گانے فلموں کا حصہ رہے ہیں‘
اوج بینڈ سے راہیں جدا کیوں ہوئیں؟
حاوی نے نہ صرف پیپسی بیٹل آف دی بینڈز کا ٹائٹل اپنے بینڈ اوج کے ساتھ جیتا بلکہ ان کے کرئیر کو اس مقام تک پہنچانے میں بھی ان کے ساتھیوں کا ہاتھ ہے۔
ان کے بقول بینڈ کا حصہ ہونا ایک مشترکہ خواب کی طرح ہوتا ہے، جہاں ذمہ داریاں بھی بانٹی جاتی ہیں اور کامیابیاں بھی مگر کبھی کبھار یہی اشتراک اختلافات کو بھی جنم دیتا ہے۔
انھیں یہ انتہائی قدم کیوں اٹھانا پڑا، اس پر بات کرتے ہوئے حاوی نے بتایا کہ ان کے اور بینڈ کے ممبران کے درمیان یہ طے نہیں ہو پا رہا تھا کہ بینڈ کی نمائندگی کس طرح ہونی چاہیے۔
اور یہی اختلاف آخرکار انھیں ایک نئے راستے پر لے آیا، جہاں انھیں آزادی بھی حاصل ہے اور وہ اپنی مرضی سے میوزک بنا رہے ہیں۔
وہ مانتے ہیں کہ سولو کیریئر میں سب سے بڑی طاقت تخلیقی آزادی ہے مگر اس کے ساتھ ہر فیصلے کی ذمہ داری بھی خود اٹھانا پڑتی ہے۔
’یہ ایسا سفر ہے جہاں آپ اکیلے ہوتے ہیں مگر مکمل طور پر خود ہوتے ہیں۔‘