پاکستان کی سینئر اور نامور اداکارہ بشریٰ انصاری نے حالیہ تنازع پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے اداکار فردوس جمال کے بیانات کو افسوسناک قرار دے دیا۔
چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط شاندار کیریئر رکھنے والی بشریٰ انصاری اپنے دوٹوک مؤقف اور بے باک انداز کے لیے جانی جاتی ہیں اور اس معاملے پر بھی انہوں نے واضح موقف اپنایا۔
حالیہ دنوں میں فردوس جمال نے ایک گفتگو کے دوران ماضی کے کئی نامور فنکاروں طلعت حسین، خیام سرحدی، شفیع محمد اور راحت کاظمی کے حوالے سے منفی رائے دی۔
انہوں نے عابد علی پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان کے فن پر سوال اٹھایا جس پر سوشل حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا خصوصاً اس لیے کہ ان میں سے کئی فنکار اب دنیا میں موجود نہیں۔
اس صورتحال پر بشریٰ انصاری نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ فردوس جمال کی قدر کرتی ہیں تاہم کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے فنکاروں کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنائے۔ ان کے مطابق شوبز انڈسٹری میں بہت کم فنکار ایسے ہوتے ہیں جنہیں کمزور کہا جا سکے، اس لیے بلاجواز تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منفی بیانات نہ صرف دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں بلکہ خود بولنے والے کی شخصیت اور اس کے قریبی افراد پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے فردوس جمال کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سوچ اور رویے پر نظرثانی کریں۔
یہ تنازع ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ فنکاروں کے درمیان اختلافِ رائے کو کس حد تک شائستگی اور احترام کے دائرے میں رکھا جانا چاہیے اور ماضی کے نامور فنکاروں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت احتیاط کیوں ضروری ہے۔