قومی وزیراعظم کا کاکول میں خطاب سفارتی محاذ پر اہم سنگ میل ثابت ہوا، عطا تارڑ adminJuly 30, 2021077 مشاهدات وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا کاکول میں کیا گیا خطاب سفارتی محاذ پر ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک سال قبل پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹس سے خطاب کے دوران پہلگام واقعے پر پاکستان کا واضح مؤقف پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق 24 اپریل 2025 کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی بھارت کے الزامات کا بھرپور جواب دیا گیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ 26 اپریل 2025 کو وزیراعظم نے کاکول میں خطاب کے دوران پہلگام واقعے کو ایک المیہ قرار دیتے ہوئے بھارت کے مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے بیانیے کو مسترد کیا اور زور دیا کہ ایسے واقعات کی آڑ میں بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش اور افسوس کا اظہار کیا، جبکہ بھارت نے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت نہیں کی۔ ان کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور 600 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ مختلف دہشت گرد گروہوں کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں، جبکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط دیوار کے طور پر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پہلگام واقعے کی تحقیقات کی پیشکش کے بعد بھارت دفاعی پوزیشن پر آ گیا۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق عالمی برادری نے پاکستان کے مؤقف کو سراہا اور بھارت کے بیانیے کو پذیرائی نہیں ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نہ صرف دہشت گردی بلکہ پانی کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور پوری قوم دفاع وطن کے لیے متحد ہے۔ ان کے مطابق کاکول میں وزیراعظم کا خطاب تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جس نے پاکستان کی سفارتی، عسکری اور ادارہ جاتی مضبوطی کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا۔