موت پر جشن! وادی کیلاش کی حیران کن روایت دنیا کی توجہ کا مرکز

چترال کی خوبصورت وادی کیلاش میں آباد قدیم برادری اپنی منفرد روایات اور ثقافت کے باعث دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے ہاں موت کو غم کے بجائے خوشی اور جشن کا موقع سمجھا جاتا ہے۔ اس روایت کو مقامی طور پر ایک تہوار کی حیثیت حاصل ہے جس میں مرنے والے کو خوشی کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے۔

کیلاش برادری کے عقائد کے مطابق انسان کی موت دراصل ایک نئی زندگی کا آغاز ہے جہاں وہ دنیاوی تکالیف سے نجات پا کر اپنے آباؤ اجداد سے جا ملتا ہے۔ اسی تصور کے تحت یہاں کسی فرد کے انتقال پر سوگ نہیں منایا جاتا بلکہ خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

مقامی روایت کے مطابق میت کو ایک مخصوص مقام پر رکھا جاتا ہے جہاں برادری کے افراد جمع ہو کر روایتی رقص پیش کرتے ہیں اور ڈھول کی تھاپ پر تین روز تک تقریبات جاری رہتی ہیں۔

اس دوران خصوصی ضیافت کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں بکریاں ذبح کر کے اجتماعی کھانے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے نہ صرف مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے بلکہ غمزدہ خاندان کی مالی معاونت بھی کی جاتی ہے۔

اگرچہ اس موقع پر قریبی عزیز اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے آنسو بھی بہاتے ہیں، تاہم مجموعی فضا میں خوشی اور جشن کا رنگ غالب رہتا ہے، جسے ماہرین انسانی جذبات کے ایک منفرد امتزاج سے تعبیر کرتے ہیں۔

تحقیقی جائزوں کے مطابق ماضی میں کیلاش برادری اپنے مردوں کو لکڑی کے تابوت میں کھلے انداز میں رکھتی تھی تاہم وقت کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافے اور اردگرد کے اثرات کے باعث اب تدفین کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ تدفین کے دوران میت کے ساتھ اس کی ذاتی اشیاء بھی رکھی جاتی ہیں تاکہ اس کی زندگی کی جھلک برقرار رکھی جا سکے۔

مزید برآں بعض مواقع پر مرحوم کی شناخت کو نمایاں کرنے کے لیے لکڑی کا مجسمہ بھی رکھا جاتا تھا مگر یہ روایت بھی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ تمام روایات کیلاش برادری کی انفرادیت کو ظاہر کرتی ہیں، جو زندگی اور موت کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہے۔

Related posts

اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.7 ریکارڈ

اقرار الحسن کی مبینہ ویڈیو پر شدید ردعمل، سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان

سوشل میڈیا پر ایدھی فاؤنڈیشن کے خلاف پروپیگنڈا، ادارے کی وضاحت سامنے آ گئی