کاروبار و مالیات منی چینجرز کرپٹو ٹریڈنگ کی اجازت ملے تو 24 ارب ڈالر سالانہ پاکستان آسکتے ہیں، ظفر پراچہ adminJuly 30, 2021080 مشاهدات پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے متعلق سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور اسٹیٹ بینک کے حالیہ فیصلے کے بعد ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای کیپ) کے وفد نے اسلام آباد میں اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ای کیپ کے وفد نے وزیر مملکت برائے خزانہ اظہر کیانی اور پاکستان کرپٹو کونسل کے سربراہ بلال بن ثاقب سے ملاقات کی جس میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کو باقاعدہ بنانے اور اس میں وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد کی قیادت ای کیپ کے چیئرمین ملک بوستان جبکہ جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ بھی ہمراہ تھے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ظفر پراچہ نے کہا کہ ملک میں اس وقت اندازاً ڈھائی سے تین کروڑ افراد غیر رسمی طور پر کرپٹو کرنسی میں ٹریڈنگ کر رہے ہیں جبکہ اس مارکیٹ کا حجم 20 ارب ڈالر سے زائد ہو چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایکسچینج کمپنیز اور منی چینجرز کو کرپٹو کرنسی کے کاروبار کی اجازت دی جائے جس سے سالانہ 24 ارب ڈالر تک زرمبادلہ ملک م یں آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ایکسچینج کمپنیاں سالانہ 12 ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملک لا رہی ہیں۔ ای کیپ کے رہنماؤں نے تجویز دی کہ موجودہ ایکسچینج کمپنیز کو اپنے بزنس کے ساتھ کرپٹو کرنسی کی ونڈو کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ اس شعبے کو ریگولیٹ کر کے معیشت کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اس موقع پر چیئرمین ای کیپ ملک بوستان نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار قانونی ہونے سے ترسیلات زر 40 ارب ڈالر سے بڑھ کر 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ دوسری جانب ملک بوستان کے مطابق بلال بن ثاقب نے اس حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں منی چینجرز کو کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کی اجازت دی جا سکتی ہے۔