پنڈی بھٹیاں سے تعلق رکھنے والے ایک محنتی نوجوان ظہیر عباس کی داستان نے سوشل میڈیا پر لوگوں کے دل جیت لیے ہیں جنہوں نے حالات کی سختیوں کے باوجود تعلیم کا دامن نہیں چھوڑا اور آج نہ صرف اعلیٰ ڈگری حاصل کر لی بلکہ بطور استاد خدمات بھی انجام دے رہے ہیں جبکہ ساتھ ہی اپنے پیشے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ََِِ
ََِِ
ظہیر عباس نے انگریزی مضمون میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی اور اب ایک کالج میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے اور استاد بننے کے باوجود اپنے سیلون کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے انہوں نے اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کیے اور اپنے خاندان کی کفالت بھی کی۔ ََِِ
ََِِ
ظہیر عباس کے مطابق انہیں بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا مگر گھریلو حالات نے انہیں اسکول چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ والد کی بیماری اور گھر کی ذمہ داریوں نے انہیں کم عمری میں ہی کام کرنے پر لگا دیا۔ انہوں نے ایک سیلون میں کام شروع کیا اور وہیں سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ََِِ
ََِِ
انہوں نے بتایا کہ وہ دن میں محنت مزدوری کرتے اور ساتھ ہی اپنی تعلیم جاری رکھتے۔ اپنی کمائی سے فیس ادا کرتے، گھر کا خرچ بھی اٹھاتے اور تعلیمی سفر کو جاری رکھتے رہے۔ مسلسل محنت اور عزم کے نتیجے میں انہوں نے نہ صرف اپنی تعلیم مکمل کی بلکہ ایم فل جیسی اعلیٰ ڈگری بھی حاصل کر لی۔ ََِِ
ََِِ
ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ تعلیم صرف ملازمت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ شعور اور خود اعتمادی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ کسی ایک ہنر کو ضرور سیکھیں تاکہ اگر ملازمت نہ بھی ملے تو وہ باعزت طریقے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ ََِِ
ََِِ
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ہمارے معاشرے میں بعض پیشوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے حالانکہ ہر محنت کرنے والا فرد قابلِ احترام ہے۔ وہ خود اس بات کی مثال ہیں کہ انسان چاہے تو کسی بھی شعبے میں رہ کر اپنے خواب پورے کر سکتا ہے۔ ََِِ
ََِِ
ان کی کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ محنت، لگن اور عزم کے ساتھ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے، اور کوئی بھی پیشہ انسان کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ اصل چیز انسان کا حوصلہ اور مستقل مزاجی ہے۔ ََِِ