تعلیمی بورڈز میں نتائج کی مبینہ تبدیلی، بڑے پیمانے پر کرپشن کے انکشافات

میرپور خاص سے کرپشن کے الزام میں گرفتار سابق کنٹرولر انور علیم نے تعلیمی بورڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق مزید انکشافات کیے ہیں۔

اینٹی کرپشن حکام کے مطابق نوابشاہ تعلیمی بورڈ میں تقریباً 90 ہزار طلبہ کے نتائج میں تبدیلی کی گئی، جبکہ حیدرآباد بورڈ میں بھی نتائج میں بڑے پیمانے پر مبینہ ہیراپھیری سامنے آئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکھر اور لاڑکانہ تعلیمی بورڈز میں بھاری رقوم کے عوض طلبہ کے نتائج تبدیل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں، جبکہ کراچی تعلیمی بورڈ میں بھی نتائج میں مبینہ ردوبدل کیا گیا۔

اینٹی کرپشن حکام کے مطابق معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تمام تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز اور کنٹرولرز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ افسران کو 30 اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام الزامات کی چھان بین کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

Related posts

سی ایس ایس امتحان 2025 کے نتائج: 12792 میں صرف 355 امیدوار کامیاب

سندھ میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی کتب کی اشاعت کا فیصلہ

قائداعظم یونیورسٹی میں آن لائن کلاسز ختم کرنے کا فیصلہ