وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، پاسپورٹ کنٹرول اختیار بحال

وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے حکومت کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی منسوخ شدہ شقیں بحال کر دی ہیں جس کے تحت شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے اور پاسپورٹ غیر فعال کرنے کا اختیار دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو معطل کر دیا جس میں پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز 3 اور 10 کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے حکومت کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

یہ کیس شہری فرحان علی سے متعلق ہے جس پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ایران کا سفر کرنے اور بعد ازاں ڈی پورٹ ہونے کا الزام ہے۔ اضافی اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ شہری کا نام غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا اور اسی بنیاد پر اس کا پاسپورٹ غیر فعال کیا گیا۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ آیا شہری خود غیر قانونی سفر میں ملوث تھا یا وہ کسی نیٹ ورک کا حصہ تھا جو لوگوں کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجتا ہے۔ انہوں نے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقات پر بھی سوالات اٹھائے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہو سکیں جس پر مزید کارروائی آئندہ سماعت میں کی جائے گی۔

Related posts

عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے، وزیر خارجہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے: ایرانی میڈیا

کہیں آپ کی یہ عادات چارجنگ کیبلز کی خرابی کا باعث تو نہیں بن رہیں؟

ٹرمپ کے بار بار حملوں پر انڈیا کے نپے تلے اور محتاط ردِعمل کی وجہ کیا ہے؟