اے سی کی ٹھنڈک یا خاموش خطرہ؟ گردوں کی پتھری کے بڑھتے کیسز نے تشویش بڑھا دی

شدید گرمی کے موسم میں جہاں ایئر کنڈیشنڈ کمروں کو راحت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے وہیں ماہرین صحت نے ایک تشویشناک پہلو کی نشاندہی کی ہے۔

ماہرین کے مطابق مسلسل اے سی میں وقت گزارنا بھی اب ایک ایسی خاموش بیماری یعنی گردے کی پتھری کے خطرے کو بڑھا رہا ہے، جو پہلے زیادہ تر دھوپ میں کام کرنے والے افراد سے منسلک سمجھی جاتی تھی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عام تاثر کے برعکس، ٹھنڈے ماحول میں رہنا جسم کو پانی کی کمی سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھتا۔ اے سی ہوا میں موجود نمی کو کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم آہستہ آہستہ پانی کھونے لگتا ہے۔ چونکہ ٹھنڈک میں نہ تو پسینہ محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی شدید پیاس لگتی ہے، اس لیے لوگ اس خاموش ڈی ہائیڈریشن کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق جب جسم میں پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو پیشاب میں موجود معدنیات جیسے کیلشیم، آکسالیٹ اور یورک ایسڈ جمع ہو کر کرسٹل بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی کرسٹل وقت کے ساتھ پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو شدید درد اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

گرمیوں میں اس مسئلے کی ایک اور بڑی وجہ پانی کے بجائے چائے، کافی اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ہے۔ یہ مشروبات جسم میں پانی کی کمی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ نمک والی اشیاء یا نمکین مشروبات بعض صورتوں میں کیلشیم کی سطح بڑھا کر پتھری کے امکانات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

غذائی عادات بھی اس بیماری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پالک، چقندر، خشک میوہ جات اور چاکلیٹ جیسی آکسیلیٹ سے بھرپور غذائیں اگر مناسب پانی کے بغیر استعمال کی جائیں تو خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کیلشیم کو مکمل طور پر ترک کرنا درست نہیں، کیونکہ متوازن مقدار میں اس کا استعمال ضروری ہے۔

احتیاطی تدابیر کے طور پر ماہرین روزانہ کم از کم ڈھائی سے تین لیٹر پانی پینے کی تجویز دیتے ہیں، جبکہ زیادہ گرمی یا پسینے کی صورت میں یہ مقدار مزید بڑھانی چاہیے۔ دفاتر میں کام کرنے والے افراد کو خاص طور پر یاد دہانی کے لیے پانی پینے کے اوقات مقرر کرنے چاہئیں تاکہ وہ اس عادت کو نظر انداز نہ کریں۔

مزید برآں ناریل پانی اور لیموں پانی کا استعمال بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔ لیموں میں موجود قدرتی اجزاء پیشاب میں موجود کیلشیم کو کرسٹل بننے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں یوں یہ پتھری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن افراد کو پہلے پتھری کا مسئلہ ہو چکا ہے، انہیں گرمیوں میں زیادہ محتاط رہنے، پانی کا استعمال بڑھانے اور باقاعدہ طبی معائنہ کروانے کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر یہ بات واضح ہے کہ اے سی کی ٹھنڈک میں چھپا یہ خطرہ معمولی احتیاط سے کم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ پانی کے استعمال اور متوازن طرزِ زندگی کو ترجیح دی جائے۔

Related posts

چینی کمپنی کی راکٹ بوسٹر گاڑی نے سب کو حیران کر دیا

ٹریفک جام کا حل، فضائی ٹیکسی نے گھنٹوں کا سفر منٹوں میں بدل دیا

اے آئی بوٹس کے سائبر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ