راولپنڈی کے بیشتر پمپس پر ریگولر پیٹرول نایاب، عوام ہائی اوکٹین خریدنے پر مجبور

راولپنڈی میں پیٹرول کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے، جہاں متعدد پٹرول پمپس پر ریگولر پیٹرول نایاب ہوگیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بیشتر پمپس پر صرف ہائی اوکٹین دستیاب ہے، جس کی قیمت تقریباً 420 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ریگولر پیٹرول کی قلت برقرار ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پمپ مالکان ریگولر پیٹرول فراہم نہیں کر رہے، جس سے مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔

شہریوں نے شکایت کی ہے کہ روزانہ کمانے والے افراد مہنگا ایندھن خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جس سے نہ صرف ان کا روزگار متاثر ہو رہا ہے بلکہ گھریلو اخراجات بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کے بڑھتے اخراجات برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔

عوام کے مطابق مہنگے ایندھن کے باعث آٹا، سبزی اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور آمدن میں کمی کے باوجود اخراجات میں اضافہ جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قلت کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر ہونے لگا ہے، پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں اور بدنظمی دیکھنے میں آ رہی ہے، تاہم اس کے باوجود شہریوں کو پیٹرول دستیاب نہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، پیٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے غریب طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے کیونکہ موجودہ حالات میں دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

Related posts

وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، پاسپورٹ کنٹرول اختیار بحال

عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے، وزیر خارجہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے: ایرانی میڈیا

کہیں آپ کی یہ عادات چارجنگ کیبلز کی خرابی کا باعث تو نہیں بن رہیں؟